کم کوشی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کاہلی، سستی۔ "نوجوانوں کی کاہلی، سہل انگاری اور کم کوشی کو دیکھ کر ان کو بڑا دکھ ہوتا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، فاران، کراچی، نومبر، )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'کم' کے بعد کوشیدن مصدر سے مشتق صیغہ امر 'کوش' بطور لاحقۂ فاعلی لگا کر اس کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب ہوا۔ جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٠٩ء کو "دیوان شاہ کمال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کاہلی، سستی۔ "نوجوانوں کی کاہلی، سہل انگاری اور کم کوشی کو دیکھ کر ان کو بڑا دکھ ہوتا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، فاران، کراچی، نومبر، )

جنس: مؤنث